19

زندگی حیات نہیں ، موت نجات نہیں

میں بس اتنا جانتا ہوں تیرے بغیر
زندگی حیات نہیں ، موت نجات نہیں

زندگی حیات نہیں ، موت نجات نہیں

خوشیاں پاؤں گا مجھے غم سے رہائی ہوگی
درِ آقا ﷺ پہ میری جب بھی رسائی ہوگی

مجھ پہ آقا ﷺ نے اگر نظر ِکرم فرمائی
عمر بھر کی یہی بس میری کمائی ہوگی

ہے تڑپ دل میں کسی طرح مدینے پہنچوں
جہاں رحمت کی گھٹا چار سُو چھائی ہوگی

بھیجو کثرت سے دُرود اپنے رسول ﷺ حق پر
جسکی برکت سے سدا سب کی بھلائی ہوگی

چاند دو ٹکڑے ہوا کیسا وہ منظر ہوگا
میرے آقا ﷺ نے جہاں اُنگللی اُٹھائی ہوگی

ان کی چوکھٹ سے جدائی مِری جب ہوگی نؔصیر
کیا بتاؤں بڑی غمگین جدائی ہوگی

زندگی حیات نہیں ، موت نجات نہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں