40

ایمان فاطمہ زیادتی اور ملزم کی مقابلے میں ہلاکت سے متعلق کیس،چیف جسٹس کا تمام ملزمان کو ساڑھے 12 بجے پیش کرنے کا حکم،رپورٹ طلب

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں قصور میں 5 سالہ بچی ایمان فاطمہ سے زیادتی اور ملزم مدثرکی مقابلے میں ہلاکت سے متعلق رپورٹ عدالت پیش کردی گئی،چیف جسٹس ثاقب نثارنے تمام ملزمان کوساڑھے 12 بجے پیش کرنے کاحکم دے دیا اور سیشن جج قصورسے گرفتاراوررہاملزمان کی رپورٹ طلب کر لی۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے زینب کے والد کے اعتراض پر تحقیقاتی ٹیم سے ہٹائے جانے والے پولیس افسر خدا بخش کو دوبارہ ٹیم کا حصہ بنانے کا حکم دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے قصور میں 5 سالہ بچی ایمان فاطمہ سے زیادتی اور ملزم مدثرکی مقابلے میں ہلاکت سے متعلق کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ قصورسکینڈل میں کس نے کیاکیا آرڈردیااورآئی جی پنجاب کہاں ہیں؟۔ایڈیشنل آئی جی نے عدالت کو بتایا کہ آئی جی پنجاب چھٹی پرہیں۔
چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پتہ تھا آج آئی جی پنجاب چھٹی کرلیں گے،اس پر ایڈیشنل آئی جی نے بتایا کہ بیٹے کی شادی کے باعث آئی جی پنجاب چھٹی پرہیں۔
عدالت نے استفسار کیا کہ قصور کی جے آئی ٹی سے خدابخش کوکس نے ہٹایا؟۔ایڈیشنل آئی جی نے بتایا کہ وزیراعلیٰ کے احکامات پرخدابخش کوعلیحدہ کیاگیا۔
سپریم کورٹ نے خدا بخش کوبحال کرنے کاحکم دےدیااورسیشن جج قصورسے گرفتاراوررہاملزمان کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے تمام ملزمان کوساڑھے 12 بجے پیش کرنے کاحکم دے دیا۔
واضح رہے کہ وزیراعلیٰ شہبازشریف نے زینب کے والدامین انصاری کے اعتراض پر جے آئی ٹی کی ٹیم سے الگ کیا تھا۔

Source

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں