37

’’اب ہم اس جسم میں نہیں رہ سکتیں، ہمیں اجازت دی جائے کہ۔۔۔‘ 3 عرب خواتین نے عدالت پہنچ کر ایسا کام کرنے کی اجازت مانگ لی جو پہلے کسی نے نہ مانگی

دبئی سٹی(مانیٹرنگ ڈیسک) متحدہ عرب امارات کی ایک عدالت میں تین خواتین ایک ایسا عجیب و غریب مطالبہ لے کر پہنچ گئیں کہ جس کے بارے میں کسی نے کبھی سوچا نا کبھی سنا تھا۔ پچیس سال عمر کی ان تینوں خواتین کا کہنا تھا کہ وہ غلط جسم میں قید ہیں اور اب مزید اس قید میں نہیں رہ سکتیں۔ وہ تینوں مرد بننے کی خواہشمند تھیں اور عدالت سے ان کی درخواست تھی کہ انہیں جنس تبدیل کروانے اور گورنمنٹ نیشنل رجسٹری میں اپنے نام تبدیل کروانے کی اجازت دی جائے۔ 
’خلیج ٹائمز‘ کے مطابق درخواست گزار تینوں خواتین نے عدالت میں یورپی ہسپتال کی میڈیکل رپورٹس پیش کیں جن میں بتایا گیا تھا کہ ان خواتین کو تبدیلی جنس کی ضرورت ہے۔ ان کے وکیل علی عبداللہ المنصوری نے بتایا کہ یہ خواتین پیدائشی نقائص کی شکار تھیں اور انہوں نے یورپ کے ایک ہسپتال میں جنس کی تبدیلی کے لئے علاج بھی شروع کروا رکھا تھا۔ 
وکیل کا کہنا تھا کہ خواتین کے جسم پر بالوں کی کثرت اور دیگر مردانہ خصائص بھی ظاہر کرتے ہیں کہ وہ پہلے ہی تبدیلی جنس کے عمل سے گزررہی ہیں اور میڈیکل پراسیس مکمل کرنے پر پوری طرح مرد بن سکتی ہیں۔ وکیل کا موقف تھا کہ تبدیلی جنس کی اجازت نہ ملنا درخواست گزار خواتین کے لئے جسمانی و نفسیاتی مسائل کا سبب بنے گا۔ 
ماتحت عدالت نے ان خواتین کی درخواست رد کردی تھی جس کے بعد انہوں نے فیڈرل اپیل کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ فیڈرل اپیل کورٹ سے بھی ان کی درخواست رد ہوگئی ہے جس کے بعد اب وہ فیڈرل سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

Source

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں