113

وہ کھانے جو خواتین میں بانجھ پن کا خاتمہ کرتے ہیں، جدید سائنسی تحقیق نے سب بتادیا

بوسٹن(نیوز ڈیسک)بانجھ پن کے علاج کے لئے حکیمی نسخے اور ڈاکٹری علاج تو مدتوں سے چلے آ رہے ہیں لیکن جدید دور کے سائنسدانوں نے تحقیق کی روشنی میں بتایا ہے کہ کچھ خاص غذائیں اس مسئلے کے حل کے لئے مہنگی ادویات سے بھی بڑھ کر فائدہ مندہیں۔

میل آن لائن کے مطابق امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی کے ’جرنل آف آبسٹیٹرکس اینڈ گائناکالوجی‘ میں شائع ہونے والی تازہ ترین تحقیق میں بتایاگیا ہے کہ انسان کی خوراک اور افزائش نسل کی قوت میں گہرا تعلق پایا جاتا ہے۔ خواتین اور مرد دونوں کچھ ایسی غذائیں استعمال کرسکتے ہیں جو انہیںبانجھ پن سے محفوظ رکھتی ہیں اور حصول اولاد میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ سائنسدانوں نے اس ضمن میں سامن مچھلی کو سرفہرست غذا قرار دیا ہے۔ اس مچھلی میں اومیگاتھری، فیٹی ایسڈ اور دیگر غذائی اجزاءبکثرت پائے جاتے ہیں۔ یہ تمام اجزاءتولیدی اعضاءکی جانب دوران خون کو تیز کرتے ہیں اور جنسی کمزوری کو دور کرنے کے لئے انتہائی مفید ثابت ہوتے ہیں۔ خصوصاً مردوں میں سپرم پیدا کر نے کے لئے اومیگاتھری کا جزو ڈی ایچ اے نہایت مددگار ثابت ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ اس مچھلی میں پائے جانے والے غذائی اجزاءماں کے پیٹ میں موجود بچے کے اعضاءکی نشوونما اور خصوصاً دماغ کے لئے بہت فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔ اگر سامن مچھلی دستیاب نہ ہو تو انڈے، دالیں اور خشک میوہ جات ضرور استعمال کرنے چاہئیں۔

مہنگی غذاﺅں کے برعکس پالک ایک ایسی غذا ہے جو سستی بھی ہے اور تولیدی صحت کے لئے ضروری اجزاءسے بھرپور بھی۔ اس میں بی وٹامن پایا جاتا ہے جو کہ جنسی خلیات کی افزائش میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ فولک ایسڈ خلیات کی تقسیم، نئے خلیات بننے میں مدد دیتا ہے جبکہ ڈی این اے خلیات کی تخلیق نو میں بھی اس کا اہم کردار ہے۔ پالک میں پایا جانے والا آئرن اور کیلشیم بچے کی صحت کے لئے مفید ثابت ہوتا ہے۔ خصوصاً دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کی افزائش او رمضبوطی کے لئے یہ اجزاءاہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سبز پتوں والی سبزیاں، مردوں کے ساتھ خواتین میں بھی جنسی تحریک پیدا کرتی ہیں جس سے ان کی ازدواجی زندگی بھرپور اور خوشگوار ہوجاتی ہے۔

ایک اور اہم غذا ’مکمل اناج‘ ہے۔ مکمل اناج سے مراد کسی بھی اناج کے تمام اجزاءکو استعمال کرنا ہے۔ مثال کے طور پر اگر گندم کو استعمال کیا جائے تو اسے چھان کر بھوسی علیحدہ نہیں کرنی چاہیے بلکہ اس طرح استعمال کرنا چاہیے کہ گندم کے دانے کے اندرونی اجزاءکے ساتھ اس کا چھلکا بھی آپ کی غذا کا حصہ بنے۔ اسی طرح دیگر اناج کو بھی مکمل یعنی چھلکے سمیت استعمال کریں تو اس کے اصل فوائد حاصل ہوتے ہیں، چاہے اسے پیس کر آٹے کی شکل میں استعمال کیا جائے یا کسی دیگر صورت میں۔ مکمل اناج میں وٹامن بی، بی نائن یعنی فولک ایسڈ اور بی 12 پائے جاتے ہیں۔ یہ تمام اجزاءحمل کے لئے معاون ثابت ہوتے ہیں۔

متعدد تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بی 12 جیسے وٹامن کی کمی خواتین کے لئے حاملہ ہونا مشکل بناسکتی ہے۔ مکمل اناج سے ملنے والا فائبر ناصرف بلڈشوگر کو متوازن رکھتا ہے بلکہ خواتین میں ایسٹروجن ہارمون کی افزائش بھی کرتا ہے جو ان کی تولیدی صحت کا بنیادی جزو ہے۔ اس کے علاوہ مٹر اور دیگر پھلیاں، گہرے رنگ کی چاکلیٹ بھی تولیدی صحت کے لئے مفید پائی گئی ہے۔

کچھ غذائیں ایسی بھی ہیں جن کے استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے۔ مثال کے طور پر سویا کی پھلیاں خواتین کے لئے تو مفید ہیں لیکن مردوں کی جنسی صحت پر ان کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اسی طرح تلی ہوئی اشیاءمردوں اور خواتین دونوں کے لئے نقصان دہ ہیں۔ کولا ڈرنکس اور مختلف قسم کے سوڈے بھی مردوں اور خواتین دونوں کی جنسی صحت کو نقصان پہنچاتے ہیں اور بانجھ پن کے مسائل میں ان کا بھی کردار ہے۔

Source

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں