27

پاکستان کا دفاع اور ہم (1)

میرے وہ کالم جو دفاعی یا بین الاقوامی موضوعات پر اس اخبار میں شائع ہوتے ہیں ان پر فیڈ بیک نسبتاً کم کم موصول ہوتا ہے۔بالعموم دو چار فون آ جاتے ہیں کہ ’’بڑا بھرپور اور معلوماتی‘‘ کالم تھا۔

لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ کالم کیوں بھرپور تصور کیا گیا اور اس کے معلوماتی ہونے کی وجوہات کیا ہیں۔ مجھے امید رہتی ہے کہ قارئین مجھ سے کسی ایسے پروفیشنل نکتے کی وضاحت مانگیں جو کالم پڑھ کر ان کے ذہن میں آتا ہے۔

اس کے مقابلے میں جو کالم داخلی یا سیاسی موضوعات پر ہوں یا جن کا تعلق شمشیر و سناں سے ہٹ کر طاؤس و رباب وغیرہ سے ہو ان کے بارے میں خاصی لے دے اور بحث و مباحثہ کیا جاتا ہے۔ کئی دوست ای میل کے ذریعے دل کا غبار نکالتے ہیں۔ یہ ایک اچھی بات ہے۔

ہر سیاسی موضوع کئی پہلوؤں کو محیط ہوتا ہے اور اس کے علاوہ مختلف قارئین کا قلبی یا عملی تعلق کسی ایسی سیاسی پارٹی سے بھی ہوتا ہے جس کے منشور یا ڈاکٹرین پر میرے کالم میں تنقید کی ہوتی ہے۔

اس لئے ’’متاثرہ قارئین‘‘ کا رد عمل بالکل بجا ہوتا ہے اور مجھے بھی ان کے فیڈ بیک سے تصویر کا دوسرا رُخ دیکھنے اور جاننے کا موقع مل جاتا ہے۔

لیکن میرا اصل (Main) مشن چونکہ دفاع پر قارئین کو آگہی دینا ہے اس لئے میں اپنے دفاعی اور بین الاقوامی دلچسپی کے موضوعات پر بھی ’’ متاثرہ قارئین‘‘ کا نقطۂ نظر جاننے کی توقع رکھتا ہوں۔تاہم یہ توقع کم ہی پوری ہوتی ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں جن کا تذکرہ اور شکوہ میں اپنے کالموں میں ایک عرصۂ دراز سے کرتا آ رہا ہوں۔

پچھلے دنوں خلافِ توقع اسلام آباد سے ایک صاحب نے ای میل پر ایک پیغام بھیجا جو یہ تھا: ’’ السلام علیکم! صحافت کا ادنیٰ سا طالب علم ہوں۔

دو ماہ قبل آپ نے جیوانی (Jiwani)‘‘میں ایک چینی بیس (Base) سے متعلق جو کالم رقم کیا تھا (روز نامہ پاکستان میں) اسے ابھی پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ بھلا ہو اس انٹرنیٹ کا کہ اس نے انجانے میں خبریت سے بھرپور اس قلمی خزینے سے استفادے کا موقع فراہم کیا۔

میں مختلف جرائد اور ویب سائٹوں پر لکھتا بھی ہوں۔آپ سے ایک ’’ مختصر‘‘ انٹرویو لینے کی خواہش ہے اگر آپ اپنے قیمتی وقت میں سے چند لمحے عنایت فرما ویں تو آپ کی نوازش ہو گی۔

اگر ممکن ہو تو اپنا رابطہ نمبر بھی عنایت فرمائیں۔

عمران خان (اسلام آباد)

نمائندہ
پاکستان ویوز
پاکستان میڈیا واچ
اسلام ٹائمز
روزنامہ انکشاف
روزنامہ بشارت
میں نے جواباً ان کو اپنا سیل فون نمبر بھیج دیا تو انہوں نے کوئی لمحہ ضائع کئے بغیر پہلے مجھے فون کیا اور پھر ای میل میں ایک اور پیغام بھیجا۔ اسے بھی ذیل میں درج کر رہا ہوں: ’’ آپ سے فون پر گفتگو کر کے بہت اچھا لگا۔ مجھے علم نہیں تھا کہ آپ لاہور میں قیام پذیر ہیں۔

میں جب بھی لاہور آیا انشا اللہ آپ کی خدمت میں ضرور حاضر ہوں گا۔ ٹیلی فون پر آپ کی ہدایت کے مطابق چند سوالات پیش خدمت ہیں۔

اگرچہ موضوعاتی اعتبار سے بعض سوالات ایک دوسرے سے میل نہیں کھاتے، تاہم آپ کے علم و تجربہ سے مستفید ہونے کے لئے انہیں بھی شامل کر دیا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ درجِ ذیل سوالات پر اپنی تفصیلی رائے عنایت فرما کر مشکور فرمائیں:
نوٹ: اپنا تفصیلی تعارف اور خدمات بھی عنایت فرمایئے گا۔۔۔ ‘‘

تابعدار
عمران خان
-1 پاکستان کی دفاعی پالیسی کن ممالک کو بطور دشمن قرار دے کر ترتیب دی گئی ہے اور اس دشمنی کی بنیاد کیا ہے؟
-2 پاکستان کی سرزمین پر چین کی ملٹری بیسز (Bases) دفاعِ پاکستان پر کیا مثبت اثرات مرتب کریں گی؟

-3کیا امریکہ کی حالیہ ناراضگی کی بنیادی وجہ پاکستانی سرزمین تک چین کی ملٹری رسائی ہے۔؟

-4 جو دفاعی مدد ہمیں تکنیکی اعتبار سے امریکہ سے ملتی تھی کیا اس حوالے سے چین، امریکہ کا متبادل ہو سکتا ہے؟

-5 یہی تکنیکی، انٹیلی جنس اور اسلحی مدد اب امریکہ بھارت کو فراہم کر رہا ہے۔یہ پاکستان کے لئے کس حد تک خطرناک ہے؟

-6 ہم نے تزویراتی گہرائی (Strategic Depth) افغانستان میں تلاش کی۔ کیا یہ گہرائی ایران سے بھی میسر آ سکتی ہے؟

-7 افغانستان میں بھارت کا بڑھتا ہوا ملٹری اور انٹیلی جنس اثر و رسوخ کیونکر خطرناک ہے؟

-8 سعودی عرب عرصہ ایک سال سے یمن پر حملہ آور ہے۔ جمہوری ایوان سے باقاعدہ قرارداد بھی منظور ہوئی کہ ہم یمن کے لئے فوج نہیں بھیجیں گے۔ اس تناظر میں ایسے وقت میں پاکستان نے فوجی دستے سعودی عرب بھیجنے کا اعلان کردیا ہے۔ کیا یہ اعلان شریکِ جنگ ہونے کے مترادف نہیں؟

9۔ شام کے علاقے غوطہ کے خلاف سرکاری افواج کے آپریشن کو لے کر میڈیا میں ایک طوفان برپا ہے۔ کیا شام کی حکومت کو حکومت کے باغی گروپوں کے خلاف کارروائی کا حق حاصل نہیں؟۔۔۔ نیز یہ بھی بتائیں کہ شام کے موجودہ حالات کا ذمہ دار کس کو اور کیوں سمجھا جاتا ہے؟
10۔ شام، عراق اور ایران کی افواج نے داعش کے خلاف ایک طویل جنگ لڑی ہے۔

اب وہی داعش افغانستان میں پاک۔افغان سرحدی علاقوں میں پلانٹ کی جارہی ہے۔ کیا اس مد میں مذکورہ ممالک سے عسکری اور انٹیلی جنس تعاون بڑھایا جاسکتا ہے؟

جواب کا منتظر
عمران
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے عمران صاحب کے دونوں خطوط آپ کے سامنے رکھ دئے ہیں۔ میرے پیش نظر ایسا کرنے کے دو مقاصد ہیں۔۔۔۔ایک یہ کہ یہ واضح کروں کہ یہ خطوط لکھنے والے کو الیکٹرانک اور پرنٹ دونوں میڈیا کا تجربہ ہے، اس لئے وہ انگریزی زبان کی متعلقہ نگارشات سے بھی (ایک حد تک ہی سہی) واقف ہوں گے۔

یہ کوالی فیکیشن ان کو اُن صحافیوں سے ممتاز کرتی ہے جو صرف اُردو زبان ہی سے استفادہ کرنے پر زور دیتے ہیں۔ میرے خیال میں اُردو زبان حضرتِ اقبال کے اس تبصرے پر ایک صدی سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد بھی ہنوز وہ مقام حاصل نہیں کرسکی جو حضرتِ علامہ کا مقصود تھا:

گیسوئے اُردو ابھی منت پذیرِ شانہ ہے
شمع یہ سودائی د لسوزئ پروانہ ہے
دوسرا مقصد عمران صاحب کے اس خط کو من و عن نقل کرنے کا یہ ہے کہ آپ کومعلوم ہو کہ ان کی طلب صادق ہے اور ان کی تحریر میں وہ سکت موجود ہے جو موضوعاتِ زیر بحث کا بوجھ برداشت کرسکے۔

دفاعی موضوعات پر ان کو گلوبل سطح پر بے شک سوچنے کا موقع کم ملا ہوگا لیکن ملکی اور علاقائی موضوعات کے بارے میں ان کی دفاعی تشویش بجا ہے۔

وہ خلوصِ دل سے چاہتے محسوس ہوتے ہیں کہ اُن موضوعات پر بھی آگاہی پائیں جو اُردو زبان کے اکثر قارئین کے دائرہ تفہیم سے باہر رہتے ہیں۔ لیکن میرے نزدیک اس قسم کے امور و معاملات پر قلم اٹھانا بھی ازبس ضروری ہے۔

میں متعدد بار عرض کرچکا ہوں کہ ملٹری سے ریٹائرہونے والے سینئر آفیسرز جس طرح ملک کے سیاسی پس منظر اور پیش منظر پر ہر شام مختلف چینلوں پر بیٹھے نقدو نظر کررہے ہوتے ہیں ان میں سے اگر آدھے جرنیل/ائرمارشل/ایڈمرل وغیرہ بھی ایسے غیرسیاسی موضوعات پر پاکستانی عوام کو آگہی دیں جن کی آج پاکستان کو ضرورت ہے تو شائد عمران جیسے لوگوں کی پیاس بجھ سکے۔

سیاست پر تبصرے کرنے کے لئے تو سیاستد انوں کی تعداد میں پاکستان نہ صرف خود کفیل ہے بلکہ خود کفالت کی منزل سے بہت آگے نکل گیا ہے جبکہ سینئر ملٹری افسروں نے عمر عزیز کا ایک بڑا عرصہ عسکری اور سٹرٹیجک موضوعات کو سمجھنے، سمجھانے اور برتنے میں گزارا ہوا ہے۔

کیا وہ اپنا یہ سارا مبلغِ علم و عمل اپنے ساتھ لے کر اس دنیا سے رخصت ہو جائیں گے(اللہ کریم ان سب کی زندگیاں دراز کرے!۔۔۔ میں نے صرف ان کی توجہ اس طرف مبذول کروانے کے لئے یہ ’’افسونِ بیداری‘‘ پھونکا ہے)

ان دو مقاصد کے پیش نظر میں عمران خان صاحب سے اُمید رکھتا ہوں کہ وہ پاکستان کے دفاعی موضوعات کے بنیادی اور ابتدائی عناصر کا مطالعہ بھی کریں اور ان پر بحث و تمحیص کا دروازہ اپنے اخبارات اور ای میڈیا پر کھولیں، مجھے معلوم ہے کہ یہ ایک بڑا مشکل چیلنج ہے۔

مجھے اس ’’پاگل پن‘‘ میں گرفتار ہوئے 30,25 برس ہوگئے۔ میں یہ امید لگائے بیٹھا ہوں کہ اگر اس طویل عرصے میں میرا کوئی ایک قاری بھی اس خار زار میں آنکلے تو غنیمت ہوگا۔ کیا خبر وہ بارش کا پہلا قطرہ ہو!۔۔۔

میں انشا اللہ عمران صاحب کے ان سوالوں کا جواب دینے کی اپنی سی کوشش کروں گا۔ لیکن یہ امید بھی رکھوں گا کہ وہ اس کارِ خیر کو آگے بڑھائیں، دفاعی مسائل کا گہرا مطالعہ کریں کہ اُردو زبان میں خاص طور پر ان موضوعات کو درخورِ اعتنا جاننے اور ان کو پبلک میں عام کرنے کی ضرورت ہے۔

عمران کے ان خطوط سے مجھے حضرت اقبال کا یہ شعربھی یاد آرہا ہے:

بیاپیدا خریدار است جانِ نا توانے را
پس از مدت گزار افتاد برما، کار وانے را
(دوڑ کر آؤ، بالآخر اس جانِ ناتواں کا ایک خریدار تو پیدا ہوہی گیا ہے۔ ایک طویل مدت کے بعدکسی قافلے میں ایسا خریدار سامنے آیا ہے!)(جاری ہے)

Source

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

پاکستان کا دفاع اور ہم (1)” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں